وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ : مَا بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ وَالْمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ ، وَاللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - عَلَى الْعَرْشِ ، يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ بَقِيَّةُ هَذَا فِي بَابِ التَّفَكُّرِ فِي اللَّهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آسمان دنیا اور اس کے بعد والے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور عرش ، پانی کے اوپر ہے ، اور اللہ تعالیٰ عرش پر ہے ، اور پھر بھی وہ تمہارے بارے میں ( ہر چیز کا ) علم رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا بقیہ حصہ ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں غور و فکر کرنے سے متعلق باب میں ، پہلے گزر چکا ہے ۔