مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ صِفَةِ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرِ فِيهَا . باب: نماز کا طریقہ اور اس میں تکبیر کہنا
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلَهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَكَعَ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهَا فِي الْكَبِيرِ فِي طُرُقِهَا كُلِّهَا شَهَرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَهُوَ ثِقَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ان کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعات میں قرآءت اور قیام ایک جتنا کرتے تھے تاہم آپ پہلی رکعت کو باقیوں کی بہ نسبت طویل ادا کرتے تھے تاکہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے جب بھی آپ سجدے میں جاتے تھے ، اور جب بھی آپ رکوع میں جاتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ، اور جب آپ دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کے بعد اٹھتے تھے تو اس وقت بھی تکبیر کہتے تھے یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے ان میں سے کچھ معجم کبیر میں نقل کی ہیں ان سب کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے اگر اللہ نے چاہا ۔