حدیث نمبر: 2775
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْسَلَّ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ انْسَلَّ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَخَرَجْتُ غَيْرَى فَإِذَا أَنَا بِهِ سَاجِدًا كَالثَّوْبِ الطَّرِيحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي ، يَا عَظِيمُ تُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ " قَالَتْ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكِ ؟ " قَالَتْ : ظَنًّا ظَنَنْتُهُ قَالَ : " إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ الَّتِي سَمِعْتِ فَقُولِيهَا فِي سُجُودِكِ ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهَا لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى يُغْفَرَ - أَظُنُّهُ قَالَ - لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے ہاں رہنے کا مخصوص دن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بستر سے نکلے میں یہ سمجھی کہ شاید آپ اپنی کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس جائیں گے میں بھی نکلی تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں یوں جیسے کپڑا ڈالا گیا ہوتا ہے میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” میرے وجود اور میرے خیال نے تیرے لئے سجدہ کیا ہے میرا دل تجھ پر ایمان لایا ہے اے میرے پروردگار ! یہ میرا ہاتھ ہے ، اور وہ ہے جو میں نے اپنے خلاف جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اے عظیم ذات ہر عظیم چیز کے لئے تجھ سے امید رکھی جاتی ہے ، تو بڑے گناہ کی مغفرت کر دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور دریافت کیا : تم کیوں باہر آئی ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ایک گمان میرے ذہن میں آیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو جبرائیل میرے پاس آئے تھے انہوں نے مجھے یہ کہا: تھا کہ میں ان کلمات کو پڑھوں جو کلمات تم نے ابھی سنے ہیں تم بھی سجدے میں ان کو پڑھا کرو کیونکہ جو شخص ان کلمات کو پڑھے گا ، اس کے سر اٹھانے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جائے گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2775
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف