وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - السَّمَاوَاتِ فَيَأْخُذُهُنَّ بِيَمِينِهِ ، وَيَطْوِي الْأَرْضَ فَيَأْخُذُهَا بِيَدِهِ الْأُخْرَى ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْمُلُوكُ ؟ " قَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عِكْرِمَةَ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سَالِمٍ هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو لپیٹے گا اور پھر انہیں دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا ، وہ زمین کو لپیٹے گا اور اُسے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لے گا پھر وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ( دنیا کے ) بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ ۔
عمر بن حمزہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ حدیث عکرمہ کو بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، اُس کے بعد انہوں نے اس روایت کی مانند حدیث بیان کی ، جو سالم نامی راوی کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی رضی اللہ عنہما سے منقول اس حدیث کی مانند ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔