وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ - وَقَبَضَ يَدَهُ ، وَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا - ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ " . قَالَ : وَيَمِيلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ : أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ غَيْرُهُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) ” جبار “ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے گا ، اور پھر ہاتھ کو بند کر لے گا ، وہ اُسے بند کرے گا ، کھولے گا اور پھر یہ فرمائے گا : میں زبردست ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست کہنے والے کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں ؟ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ ارشاد فرماتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ، بائیں ہلنے لگے ، یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے حرکت کر رہا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ منبر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گر تو نہیں جائے گا ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جبکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔