مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَنَسِيَ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ مَاتَ عَلَى حَالِهِ هَذِهِ مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الَّذِي لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ مَثَلُ الْجَائِعِ يَأْكُلُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ لَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ شَيْئًا " . ¤ قَالَ أَبُو صَالِحٍ : قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : مَنْ حَدَّثَ بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ سَمِعُوهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوعبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع مکمل نہیں کر رہا تھا اور سجدے میں ٹھونگ مارتا تھا اور وہ نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ اس حالت میں مر گیا تو یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر مرے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص رکوع مکمل نہیں کرتا اور سجدے میں ٹھونگ مارتا ہے اس کی مثال اس بھوکے شخص کی مانند ہے ، جو ایک یا دو کھجوریں کھا لیتا ہے تو وہ اس کی ضرورت پوری نہیں کرتی ہیں ۔ ابوصالح بیان کرتے ہیں : میں نے ابوعبداللہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : لشکروں کے امیروں نے یعنی سیدنا عمرو بن العاص نے سیدنا خالد بن ولید نے اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ نے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ حدیث سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔