مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ . باب: فجر کی نماز میں قرأت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ صَلَّى فِي بَعْضِ مَسَاجِدِ بَنِي أَسَدٍ الْفَجْرَ فَصَلَّى بِهِمْ إِمَامُهُمْ بِأَطْوَلِ سُورَتَيْنِ فِي الْمُفَصَّلِ عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : أَلَا أَرَاكَ شَابًّا تَقْرَأُ بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ وَأَنْتَ شَابٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے بنواسد کی کسی مسجد میں فجر کی نماز اد کی ان لوگوں کے امام نے انہیں نماز پڑھاتے ہوئے مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی دو طویل سورتیں پڑھائیں تاکہ سیدنا عبداللہ تعالی کی دلجوئی ہو جب اس نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نوجوان ہو اس نماز میں یہ دونوں سورتیں تم اس وقت پڑھ سکتے ہو جب تم نوجوان ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔