مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ . باب: ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سُكَيْنٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّ أَهْلَ بَيْتِهِ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، فَقَرَأَ بِنَا قِرَاءَةً هَمْسًا فَقَرَأَ بِالْمُرْسِلَاتِ ، وَالنَّازِعَاتِ ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ، وَنَحْوِهَا مِنَ السُّورِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ وَكِيعٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤عبدالعزیز بن ابوسکین بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کی امامت کرتے ہوئے ہمیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں انہوں نے پست آواز میں قرأت کی انہوں نے سورت مرسلات سورہ نازعات سورہ عم یتسالون اور اس جیسی دوسری سورتوں کی تلاوت کی ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سکین بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے وکیع یحیی بن معین ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔