حدیث نمبر: 2684
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : اجْتَمِعُوا فَلْأُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ؟ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ ! ! قَالَ : فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ ثَلَاثًا - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا نَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَأُقِيمَتْ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ فَأَحْسَبُ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ آيَاتٍ مِنْ يس ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَشَاءَ فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ رِوَايَةُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین

یزید بن براء بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی نے فرمایا تم لوگ اکھٹے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ، اور کس طرح آپ نماز ادا کرتے تھے کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے ساتھ اور کتنا عرصہ رہوں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے بچوں اور اپنے اہل خانہ کو اکھٹا کیا وضو کے لئے پانی منگوایا کلی کی ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا بائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ) اس طرح تھا میں نے تمہیں یہ دکھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے انہوں نے نماز ادا کی ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی پھر وہ باہر نکلے پھر انہوں نے نماز کے لیے حکم دیا تو اقامت کہی گئی ، تو انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی میرا خیال ہے میں نے ان کی زبانی سورت یسین کی دس آیات سنی تھیں پھر انہوں نے عصر کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہمیں عشا کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے فرمایا : میں نے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں تمہیں یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ، اور آپ کس طرح نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ابوالعالیہ کے حوالے سے تیس صحابہ کے حوالے سے روایت گزر چکی ہے ، جو اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔