مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں قرأت کرنا
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ وَمَالَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ فِيهِ قَالَ : فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ أَيَّةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ وَيُقَالُ : إِنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَالِ اخْتِلَاطِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : تیس صحابہ کرام اکٹھے ہوئے اور بولے : جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ جن نمازوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں قرأت کیا کرتے تھے تو ہمیں ان کا علم ہے ، اور ان کا پتہ ہے کہ جن میں آپ بلند آواز میں قرأت نہیں کیا کرتے تھے تو ہم اس پر قیاس نہیں کریں گے جن میں آپ بلند آواز میں قرأت کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : تو ان حضرات کا اس بات پر اتفاق تھا ان میں سے دو افراد کی بھی رائے مختلف نہیں تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس آیات کی تلاوت کرتے تھے ، اور آخری دو رکعات میں اس سے نصف تلاوت کرتے تھے ، اور عصر کی نماز میں آپ اس سے نصف تلاوت کرتے تھے جتنی تلاوت آپ ظہر کی پہلی دو رکعات میں کرتے تھے ، اور آخری دو رکعات میں ظہر کی آخری دو رکعات کی مقدار کی نصف تلاوت کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا یہ بات کہی جاتی ہے یزید بن ہارون نے اس سے اس کے اختلاط کے دوران سماع کیا تھا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔