مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ وَضْعِ الْيَدِ عَلَى الْأُخْرَى . باب: ایک ہاتھ دوسرے پر رکھنا
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، رَفَعَهُ قَالَ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ النُّبُوَّةِ : تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ وَتَأْخِيرُ السُّحُورِ وَوَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَالْمَوْقُوفُ صَحِيحٌ ، وَالْمَرْفُوعُ فِي رِجَالِهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي شَيْءٌ مِنْ نَوْعِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الصِّيَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں نبوت کے اخلاق کا حصہ ہیں ، افطاری جلدی کرنا سحری تاخیر سے کرنا اور نماز کے دوران دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرفوع “ حدیث کے طور پر بھی نقل کی ہے ، اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ” موقوف “ ہونا مستند ہے ” مرفوع “ روایت کے رجال میں ایک ایسا شخص بھی کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث روزوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔