مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ . باب: مسواک کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّهُ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ فَيَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ فَيَدْنُو مِنْهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ لِلْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ وَهَذَا مَرْفُوعٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے مسواک کرنے کا حکم دیا یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ جب مسواک کر کے نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ایک فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے ، اور اس کی قرأت کو غور سے سنتا ہے وہ اس شخص کے قریب ہو جاتا ہے ( یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ راوی نے نقل کیا ) یہاں تک کہ وہ فرشتہ اپنا منہ اس شخص کے منہ پر رکھ دیتا ہے ، تو اس شخص کے منہ سے قرآن کا جو بھی حصہ نکلتا ہے وہ فرشتے کے اندر چلا جاتا ہے ، تو تم قرآن کے لئے اپنے مونہوں کو پاک و صاف رکھو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تاہم وہ روایت ” موقوف “ ہے ، اور یہ ” مرفوع “ ہے ۔