کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسواک کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 2543
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ ، رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَالْبَزَّارُ لِحَدِيثِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ : إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ : " عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " : " وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ هَبَطَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ : أَلَا سَائِلٌ فَيُعْطَى ؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ؟ أَلَا مُسْتَشْفِعٌ فَيُشْفَعُ ؟ أَلَا تَائِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ ؟ " . ¤ وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَلَكِنَّهُ فِي الْمُسْنَدِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مُعَنْعَنٌ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، اس روایت کو عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں نقل کیا ہے امام بزار نے صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث روایت کی ہے ، اور انہوں نے اس روایت میں ” ہر نماز کے وقت “ کے الفاظ کے ہمراہ یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک مؤخر کر دیتا جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے ، تو اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے وہ یہ فرماتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو کیا کوئی سفارش کرنے والا ہے کہ اس کی سفارش قبول ہو کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ، اور مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے “ ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں تاہم مسند میں ابواسحاق کے حوالے سے سیدنا عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے معنعن روایت کے طور پر منقول ہے امام بزار نے اسے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : عبدالرحن بن یسار نے عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن نامی کو یحیی بن معین ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور دوسری سند میں متابعت کی موجودگی کی وجہ سے عنعنہ کا نقص ختم اور سند متصل ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2544
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2545
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا يَتَوَضَّئُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا جس طرح وہ ( ہر نماز کے وقت ) وضو کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2546
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2547
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالسِّوَاكِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2548
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2549
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ تَضْعُفُوا لَأَمَرْتُكُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمِ بْنِ كَيْسَانَ الْمُلَائِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایسا نہیں کر پاؤ گے ، تو میں تمہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مسلم بن کیسان ملائی کے حوالے سے روایت کیا ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے امام بزار فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2550
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَسْتَاكُوا ، فَقَالَ : " تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا ، اسْتَاكُوا ، فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُذَكِّرُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ . ¤ وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، قَالَ ابْنُ السَّكَنِ وَغَيْرُهُ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے مسواک نہیں کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ مسواک کیے بغیر میرے پاس آ گئے ہو تم لوگ مسواک کرو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں ان پر ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنا لازم قرار دیتا جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہے ، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں قرآن نازل ہو جائے گا“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ۔ ابن سکن اور دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کا راوی 'أبو علی الصیقل' مجہول ہے۔
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي مسند العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه ، 6566 البحر الزخار مسند البزار ومما روى تمام بن العباس ، 1159»
حدیث نمبر: 2551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ : سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2552
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَأَمَرْتُ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ : أَرْطَاةُ ، أَبُو حَاتِمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ سنت ہو جائے گی تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس میں ایک راوی
حدیث نمبر: 2553
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنَّا نَضَعُ سِوَاكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ طَهُورِهِ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَدَعُ السِّوَاكَ ؟ ! قَالَ : " أَجَلْ ، لَوْ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنِّي عِنْدَ كُلِّ شَفْعٍ مِنْ صَلَاتِي لَفَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ : السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ، طہارت کے پانی کے ہمراہ مسواک بھی رکھ دیتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مسواک کو ترک نہیں کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اگر میرے لئے یہ ممکن ہوتا کہ میں ہر دو رکعات کے بعد مسواک کر سکتا تو میں ایسا بھی کرتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس میں السری بن اسماعیل ہے جو کہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 2554
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " فَضْلُ الصَّلَاةِ بِسِوَاكٍ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ صَلَاةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَدْ صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” مسواک کے ساتھ نماز ادا کرنے کو مسواک کے بغیر نماز ادا کرنے پر ستر درجہ فضیلت حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2555
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَكْعَتَانِ بِسِوَاكٍ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً بِغَيْرِ سِوَاكٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” مسواک کے ساتھ دو رکعات ادا کرنا مسواک کے بغیر ستر رکعات سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2556
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ أَوْ وَحَيٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اس کے بارے میں مجھ پر قرآن نازل ہو جائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وحی نازل ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2556
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له
حدیث نمبر: 2557
قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ " . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے امام أحمد نے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں میری طرف وحی کی جائے گی “ ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2557
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2558
وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِلَفْظِ : " لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي " . ¤ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے اپنے دانتوں کے بارے میں اندیشہ ہوا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2559
وَعَنْ وَاثِلَهَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ یہ مجھ پر لازم قرار دے دی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2560
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَعَارَّ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا أَجْرَى السِّوَاكَ عَلَى فِيهِ وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَفِي بَعْضِهَا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَغَيْرُ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سوتے تھے تو مسواک آپ کے پاس ہوتی تھی اور جب آپ بیدار ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے جس بھی حصے میں بیدار ہوتے تھے تو آپ مسواک کیا کرتے تھے “ ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند ضعیف ہے ، اس کے بعض طرق میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا بعض طرق میں حسام بن مصک نامی راوی ہے ، اور دیگر راوی بھی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2561
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أَدْرَدَ . أَوْ حَتَّى خَشِيتُ عَلَى لَثَتِي وَأَسْنَانِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مجھے درد ہو گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہاں تک کہ مجھے اپنے مسوڑھوں اور دانتوں کے بارے میں اندیشہ ہوا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد ہے ، اور وہ ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2562
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَأَدْرَدُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جبرائیل نے مجھے مسواک کرنے کی ہدایت کی یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے درد ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن واقد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2563
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَازَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَضْرَاسِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل مجھے مسلسل مسواک کی تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ مجھے اپنی داڑھوں کے بارے میں اندیشہ ہوا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2564
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّهُ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ فَيَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ فَيَدْنُو مِنْهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ لِلْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ وَهَذَا مَرْفُوعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے مسواک کرنے کا حکم دیا یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ جب مسواک کر کے نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ایک فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے ، اور اس کی قرأت کو غور سے سنتا ہے وہ اس شخص کے قریب ہو جاتا ہے ( یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ راوی نے نقل کیا ) یہاں تک کہ وہ فرشتہ اپنا منہ اس شخص کے منہ پر رکھ دیتا ہے ، تو اس شخص کے منہ سے قرآن کا جو بھی حصہ نکلتا ہے وہ فرشتے کے اندر چلا جاتا ہے ، تو تم قرآن کے لئے اپنے مونہوں کو پاک و صاف رکھو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تاہم وہ روایت ” موقوف “ ہے ، اور یہ ” مرفوع “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2565
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمْرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسِّوَاكِ ، وَقَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ هُوَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں اپنی داڑھی کو چھو لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خطاب ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2566
وَعَنْ مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمَيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : الْحَيَاءُ ، وَالْحِلْمُ ، وَالْحِجَامَةُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالتَّعَطُّرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَمَلِيحٌ وَأَبَوْهُ وَجَدُّهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمُ . ¤
محمد محی الدین
ملیح بن عبداللہ خطمی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ چیزیں رسولوں کی سنت ہیں حیاء بردباری پچھنے لگوانا مسواک کرنا اور عطر لگانا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ملیح ، اس کے والد اور اس کے دادا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2567
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَزِمْتُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَدْرِدَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَحِيحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے مسواک کو لازم پکڑا یہاں تک کہ یہ اندیشہ ہوا کہ میرے دانت ختم ہو جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2568
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَنَامُ لَيْلَةً وَلَا يَنْتَبِهُ إِلَّا اسْتَنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ فِعْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سونے لگتے تھے یا جب بھی رات کو بیدار ہوتے تھے تو مسواک کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فعل کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2569
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ حَتَّى يَسْتَاكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز وغیرہ کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2570
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مِرَارًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کئی مرتبہ مسواک کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2571
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رُبَّمَا اسْتَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات میں چار مرتبہ مسواک کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً۔
حدیث نمبر: 2572
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ - وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِهَا - فَذَكَرَ : أَنَّ سِوَاكًا كَانَ لَا يَزَالُ فِي إِنَاءٍ ، فَإِنْ شَغَلَهَا عَمَلٌ أَوْ صَلَاةٌ وَإِلَّا أَخَذَتِ السِّوَاكَ فَاسْتَاكَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ فِي الطَّهَارَةِ ، وَيَأْتِي غَيْرُهَا فِي الزِّينَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
یزید بن اصم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : یزید اُن کے ہاں یتیم کے طور پر زیر پرورش رہے تھے انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک مسواک ہر وقت برتن میں موجود رہتی تھی اگر وہ کسی کام میں مصروف ہونے لگتی تھیں ، یا نماز ادا کرنے لگتی تھیں ، تو وہ مسواک لے کر مسواک کر لیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مسواک کے بارے میں بہت سی احادیث طہارت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں دیگر احادیث زینت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2572
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن