مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَظَمَةِ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى - . باب: اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بیان’ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ جِبْرِيلَ : هَلْ تَرَى رَبَّكَ ؟ قَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ ، لَوْ رَأَيْتُ أَدْنَاهَا لَاحْتَرَقْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَائِدٌ الْأَعْمَشُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَوْضُوعَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يَهِمُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میرے اور اس کے درمیان نور کے 70 حجاب ہیں ، اگر میں اُن میں سے ( اپنی طرف والے ) سب سے قریب والے ( حجاب ) کو دیکھ لوں ، تو میں جل جاؤں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں اعمش کو ساتھ لے کر چلنے والا شخص موجود ہے ، امام ابوداؤود فرماتے ہیں : اس سے موضوع احادیث منقول ہیں ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے