مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرُّؤْيَةِ . باب: دیدار کا بیان
حدیث نمبر: 248
وَعَنْ عِكْرِمَةَ : " وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ " . قَالَ : شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْيَقَظَةِ ، رَآهُ بِعَيْنَيْهِ حِينَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى عِكْرِمَةَ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
عکرمہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” وہ خواب جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے ، انہیں ہم نے لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے “ عکرمہ فرماتے ہیں : یہ وہ چیز ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کے دوران دکھائی گئی تھی ، آپ نے اسے اپنی ظاہری آنکھوں کے ساتھ دیکھا تھا ، یہ اُس وقت کی بات ہے ، جب آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے عکرمہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔