مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالْإِشَارَةِ . باب: نماز کے دوران کلام کرنا یا اشارہ کرنا
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ . ¤ قُلْتُ : لِعَمَّارٍ عِنْدَ النَّسَائِيِّ : أَنَّهُ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَيَكُونُ هَذَا نَاسِخًا لِذَاكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا تھا تو یہ روایت اس روایت کی ناسخ شمار ہو گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔