مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالْإِشَارَةِ . باب: نماز کے دوران کلام کرنا یا اشارہ کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَهُمْ يُصَلُّونَ سَأَلَ الَّذِي إِلَى جَنْبِهِ فَيُخْبِرُهُ بِمَا فَاتَهُ فَيَقْضِي ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي مَعَهُمْ حَتَّى أَتَى مُعَاذٌ يَوْمًا فَأَشَارُوا إِلَيْهِ إِنَّكَ قَدْ فَاتَكَ كَذَا وَكَذَا فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ، فَصَلَّى مَعَهُمْ ثُمَّ صَلَّى بَعْدُ مَا فَاتَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَحْسَنَ مُعَاذٌ وَأَنْتُمْ فَافْعَلُوا كَمَا فَعَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگوں کا یہ معمول ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتا اور لوگوں کو نماز ادا کرتے ہوئے پاتا تو اپنے پہلو میں موجود شخص سے کچھ دریافت کر لیتا تھا اور دوسرا شخص اسے بتا دیا تھا کہ کتنی نماز گزر چکی ہے ، تو وہ اس حساب سے قضا کر لیتا تھا پھر وہ اٹھ کر ان لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیتا تھا ایک دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے لوگوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا : آپ کی اتنی اتنی نماز فوت ہو چکی ہے ، تو انہوں نے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا انہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی پھر جو نماز پہلے گزر چکی تھی وہ بعد میں ادا کر لی اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : معاذ نے اچھا کیا ہے تم لوگ بھی ویسا ہی کیا کرو جس طرح اس نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ” ضعیف “ ہیں ۔