حدیث نمبر: 2435
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَرَدَّ النَّبِيُّ إِشَارَةً ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّا كُنَّا نَرُدُّ السَّلَامَ فِي صَلَاتِنَا فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ فَقَالَ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا ، جب آپ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : پہلے ہم نماز کے دوران سلام کا جواب دے دیتے تھے پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ، جب کہ ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن صالح کاتب اللیث جمہور ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔