مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْهَى عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: نماز کے دوران ہنسنے یا اِدھر اُدھر دیکھنے یا اس طرح کے دیگر امور جن سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2434
وَعَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي يَقُولُ : " خَفِّفْ فَإِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً " ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : هُوَ مِثْلُ أَخِيهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نماز ادا کر رہا تھا میرے پیچھے سے کسی صاحب نے کہا: مختصر نماز ادا کرنا ، کیونکہ ہمیں تم سے ایک کام ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ زید بن اسلم ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم اور معن بن عیسیٰ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنے بھائی کی مانند ہے ۔