مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْهَى عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: نماز کے دوران ہنسنے یا اِدھر اُدھر دیکھنے یا اس طرح کے دیگر امور جن سے منع کیا گیا ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَإِذَا الْتَفَتَ قَالَ : يَابْنَ آدَمَ إِلَى مَنْ تَلْتَفِتُ ؟ إِلَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنِّي ؟ أَقْبِلْ إِلَيَّ فَإِذَا الْتَفَتَ الثَّانِيَةَ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا الْتَفَتَ الثَّالِثَةَ صَرَفَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجْهَهُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، جب وہ شخص اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالی فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم کس کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ کیا وہ کوئی ایسا ہے ، جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہے ؟ تم میری طرف متوجہ رہو جب وہ شخص دوسری مرتبہ ادھر اُدھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ پھر اس کی مانند ارشاد فرماتا ہے ، جب وہ شخص تیسری مرتبہ ادھر ادھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالٰی اس سے اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔