مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُدْرِكُ مَعَ الْإِمَامِ وَمَا فَاتَهُ . باب: اس شخص کا بیان جو امام کے ساتھ کچھ نماز پا لیتا ہے ، اور کچھ نماز فوت ہو جاتی ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ جُنْدُبًا وَمَسْرُوقًا أَدْرَكَا رَكْعَةً - يَعْنِي : مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ - فَقَرَأَ جُنْدُبٌ وَلَمْ يَقْرَأْ مَسْرُوقٌ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَا يَقْضِيَانِ فَجَلَسَ مَسْرُوقٌ فِي الثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ ، وَقَامَ جُنْدُبٌ فِي الثَّانِيَةِ وَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَا تَذَاكَرَا ذَلِكَ فَأَتَيَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : كُلٌّ قَدْ أَصَابَ أَوْ قَالَ : كُلٌّ قَدْ أَحْسَنَ ، وَاصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ مَسْرُوقٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ بَعْضِهَا سَاقِطٌ مِنْهُ رَجُلٌ ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ جندب اور مسروق ( یہ دونوں تابعی ہیں ) انہوں نے ایک رکعت پائی راوی کہتے ہیں : یعنی مغرب کی نماز کی ایک رکعت امام کی اقتداء میں پائی ( تو باقی رہ جانے والی نماز کو ادا کرتے ہوئے ) جندب نے تلاوت کی اور مسروق نے امام کے پیچھے تلاوت کی جب امام نے سلام پھیر دیا تو یہ دونوں صاحبان اٹھ کر گزر جانے والی نماز ادا کرنے لگے ، تو مسروق دوسری رکعت کے بعد بھی بیٹھے اور تیسری رکعت کے بعد بھی بیٹھے جب کہ جندب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اور نہیں بیٹھے جب ان دونوں نے نماز مکمل کر لی تو ان کی اس مسئلہ کے بارے میں بات چیت ہوئی ، تو یہ دونوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے ٹھیک کیا ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تم دونوں نے اچھا کیا ہے ، لیکن میں اس طرح کرتا جس طرح مسروق نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ساقط ہے ، اور اس سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے زیادہ تر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔