مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً بِالنَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ وَفِي رِوَايَةٍ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ : اللَّيْثِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : الْبَكْرِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوواقد کندی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران جس میں ان کا انتقال ہوا ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے ، اور تنہا نماز ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ طویل نماز ادا کرتے تھے ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوواقد بدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے لفظ ” لیثی “ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے لفظ ” بکری “ نقل کیا ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔