مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ تَلْقِينِ الْإِمَامِ . باب: امام کو لقمہ دینا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " أَصَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَ عَلَيَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " أَنْ تَفْتَحَ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی نماز کے دوران آپ کو مشابہ لگ گیا جب آپ نماز مکمل کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے ہماری اقتداء میں نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔