مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ تَلْقِينِ الْإِمَامِ . باب: امام کو لقمہ دینا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَرَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي آيَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ : " أَمَا صَلَّى مَعَكُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ؟ " قَالُوا : لَا قَالَ : فَرَأَى الْقَوْمُ أَنَّهُ إِنَّمَا سَأَلَ عَنْهُ لِيَفْتَحَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا قَيْسَ بْنَ الرَّبِيعِ فَإِنَّهُ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ایک آیت کے بارے میں تردد کا شکار ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا تم لوگوں کے ساتھ ابی بن کعب نے نماز ادا نہیں کی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس لئے دریافت کیا تھا کہ انہوں نے آپ کو لقمہ دے دینا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے قیس بن ربیع کے علاوہ اس کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں اسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔