مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِمَامَةِ . باب: امامت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ، قُلْتُ : شُعَيْبٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ وَلَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ مہاجرین کی امامت کیا کرتے تھے جب وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تھے ان لوگوں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، اور دیگر مہاجرین بھی شامل تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن جانتے تھے ( یعنی قرآن کی زیادہ آیات کے حافظ تھے ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ، ” اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سب سے زیادہ قرآن آتا تھا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن ابواشعث ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : شعیب نامی اس راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب کہ اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی نہ ہو اور بقیہ بن ولید نہ ہو ۔