مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ رَدِّ مَنْ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي . باب: جو نمازی کے آگے سے گزرے اسے واپس کرنا ( یا روک دینا )
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا، إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض نماز ادا کی نماز کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ ملا لئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ہوا تھا کہ شیطان نے میرے آگے سے گزرنے کی کوشش کی تھی تو میں نے اس کا گلہ دبا دیا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھوں پر محسوس کی اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان پہلے دعا نہ کر چکے ہوتے تو اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا جانا تھا یہاں تک کہ اہل مدینہ کے بچوں نے اس کے گرد چکر لگانے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔