مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ رَدِّ مَنْ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي . باب: جو نمازی کے آگے سے گزرے اسے واپس کرنا ( یا روک دینا )
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فَمَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِحَلُوبَةٍ لَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَفْهَمْ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : يَا أَعْرَابِيُّ وَرَاءَكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ؟ " قَالُوا : عُمَرُ ، قَالَ : " مَا لِهَذَا فِقْهٌ " . ¤ قُلْتُ : هَذَا الْكَلَامُ أَخْبَرَ بِهِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ لَا عَنْ عُمَرَ ، فِيمَا أَحْسَبُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبُ الْبَجَلِيُّ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کیا لیکن اسے سمجھ نہیں آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے دیہاتی پیچھے رہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا : کلام کرنے والا شخص کون تھا ؟ تو لوگوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کتنا سمجھ دار آدمی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس کلام کو روایت نے دیہاتی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل نہیں کیا ہے جیسا کہ میرا گمان ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔