مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ . باب: کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے ؟
حدیث نمبر: 2295
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَعْلَى الْوَادِي نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ قَدْ قَامَ وَقُمْنَا إِذَا خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شِعْبِ أَبِي دُبٍّ - شِعْبِ أَبِي مُوسَى - فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُكَبِّرْ، وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبُ بْنُ زَمْعَةَ حَتَّى رَدَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی کے بالائی حصے میں موجود تھے ہمارا نماز ادا کرنے کا ارادہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اسی دوران شعب ابودب یعنی شعب ابوموسیٰ میں سے ایک گدھا نکل کر ہمارے سامنے آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے آپ نے تکبیر نہیں کہی آپ نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اسے واپس کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔