❮
❯
حدیث نمبر: 2284
وَعَنِ الْمِقْدَامِ قَالَ : جَلَسَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعُبَادَةُ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنَ الْبَعِيرِ فَقَالَ : " مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : وَالْمِقْدَامُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْحَسَنِ ، قُلْتُ : الْمِقْدَامُ هَذَا هُوَ الرَّهَاوِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
محمد محی الدین

مقدام بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ حارث بن معاویہ کے پاس تشریف فرما تھے ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کس کو یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں مال غنیمت کے اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھائی تھی جب آپ نے نماز مکمل کی تھی تو آپ نے اونٹ کے ایک بال کو لے کر ارشاد فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو چیز مال فے کے طور پر عطا کی ہے ، اس میں سے میرے لئے اتنا لینا بھی حلال نہیں ہے البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے ، اور خمس بھی تمہارے درمیان تقسیم ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : مقدام نامی راوی کے حوالے سے حسن بصری کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے میں یہ کہتا ہوں : مقدام نامی یہ شخص مقدام رہاوی ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2284
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «أخرجه مسند البزار برقم: 2712، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 2271، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 4149، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 6135، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 13082، وأخرجه شرح السنة برقم: 2727»