حدیث نمبر: 2240
وَعَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ ؟ قَالَ : هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ فِي نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا زِيَادَ بْنَ الْأَوْبَرِ الْحَارِثِيَّ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِثِقَةٍ وَلَا ضَعْفٍ . ¤
محمد محی الدین

زیاد حارثی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : آپ ہی وہ فرد ہیں جو لوگوں کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ وہ جوتوں میں نماز ادا کریں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم ! جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام کی طرف رُخ کر کے جوتوں میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف زیاد بن اوبر حارثی کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں نے کسی شخص کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا کہ کسی نے اسے ” ثقہ “ یا ضعیف قرار دیا ہو ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف