مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَحْصُلُ بِهِمْ فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ . باب: ان افراد ( کی تعداد ) کا بیان ، جن کے ذریعے جماعت کی فضیلت حاصل ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 2182
وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَلَّى فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو جَابِرٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَدْرَكْتُهُ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ابوجابر ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ میں نے اس کا زمانہ پایا ہے وہ حدیث میں قومی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔