حدیث نمبر: 2180
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَبَسَكَ يَا فُلَانُ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ " قَالَ : فَذَكَرَ شَيْئًا اعْتَلَّ بِهِ قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ ؟ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ظہر کی نماز پڑھا دی راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ( مسجد کے ) اندر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں ! اتم نماز میں کیوں شریک نہیں ہو پائے ؟ اس شخص نے کوئی معاملہ ذکر کیا جس کے ذریعے اس نے اپنا عذر بیان کیا راوی کہتے ہیں : وہ شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس شخص کے ساتھ نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابي سعيد الخدري رضى الله عنه 11608»