مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ . باب: باجماعت نماز ادا کرنا
وَعَنْ قَبَاثَ بْنِ أَشْيَمَ اللِّيثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ أَرْبَعَةٍ تَتْرَى ، وَصَلَاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ ثَمَانِيَةٍ تَتْرَى ، وَصَلَاةُ ثَمَانِيَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مِائَةٍ تَتْرَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا قباث بن اشیم لیتی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دو آدمی یوں نماز ادا کریں کہ ان میں سے ایک دوسرے کی امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چار افراد کے الگ ، الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور چار آدمیوں کا یوں نماز ادا کرنا کہ ان میں سے کوئی ایک امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آٹھ آدمیوں کے الگ الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور آٹھ آدمیوں کا یوں نماز ادا کرنا کہ ان میں سے کوئی ایک امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک سو افراد کے الگ الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔