حدیث نمبر: 2125
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِكَفَّارَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ضَعِيفَانِ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طبیعت پر ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ( تیاری یا پہرہ داری ) ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام بزار کے استاد خالد بن یوسف سمتی نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف