حدیث نمبر: 2124
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ" فَقُلْتُ لَهُ : مَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ : كَذَا قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ : "يَفْسُو أَوْ يَضْرُطُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ اخْتِلَافٌ . ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُغْرِبُ ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک وہ جائے نماز پر بیٹھا ہوا نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس پر رحم کر جب تک وہ بندہ وہاں سے اٹھ نہیں جاتا یا اسے حدث لاحق نہیں ہو جاتا “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : حدث لاحق ہونے سے مراد کیا ہے ، تو استاد نے جواب دیا : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف