مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کا انتظار کرنا
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَإِعْمَالُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَغْسِلُ الْخَطَايَا غَسْلًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَزَادَ الْبَزَّارُ فِي أَوَّلِهِ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا "، وَزَادَ فِي أَحَدِ طَرِيقَيْهِ رَجُلًا وَهُوَ أَبُو الْعَيَّاسِ غَيْرُ مُسَمًّى وَقَالَ : إِنَّهُ مَجْهُولٌ ، قُلْتُ : أَبُو الْعَيَّاسِ بِالْيَاءِ الْمُثَنَّاةِ آخِرَ الْحُرُوفِ وَالسِّينِ الْمُهْمَلَةِ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدم اٹھا کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا گناہوں کو دھو دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ؟ “ اور انہوں نے اس کی دو اسناد میں ایک شخص کا ذکر اضافی کیا ہے ، اور وہ ابوالعباس ہے وہ فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ابوالعیاس ہے ، جس میں ” ی “ ہے ، اور ” س “ ہے ۔