❮
❯
حدیث نمبر: 2120
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُصَلُّونَ جَمِيعًا، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَ لَهَا خَلِيلٌ تَلْبَسُ الْقَالَبَيْنِ تَطُولُ بِهِمَا لِخَلِيلِهَا فَأَلْقَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَ فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ : أَخْرِجُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجَهُنَّ اللَّهُ .
قُلْنَا لِأَبِي بَكْرٍ : مَا الْقَالَبَيْنِ ؟ قَالُوا : رَفِيضَتَيْنِ مِنْ خَشَبٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین اکھٹے نماز ادا کیا کرتے تھے تو جب کسی عورت کا کوئی آشنا ہوتا تو وہ اونچی ایڑی والے جوتے پہن لیتی تاکہ ان کے ذریعے اپنے آشنا کے لئے لمبی دکھائی دے ، تو اللہ تعالی نے ان عورتوں پر حیض مسلط کر دیا ۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان عورتوں کو نکال دو جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں نکال دیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوبکر نامی راوی سے دریافت کیا : قالبین سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : لکڑی سے بنے ہوئے جوتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔