حدیث نمبر: 2114
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَحْلِفُ فَيَبْلُغُ فِي الْيَمِينِ : مَا مِنْ مُصَلًّى لِلْمَرْأَةِ خَيْرٌ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، إِلَّا امْرَأَةً قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ وَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا قُلْتُ : مَا مَنْقَلَيْهَا ؟ قَالَ : امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ .
محمد محی الدین

ان کے بارے میں یہ بات بھی منقول ہے : وہ حلف اٹھاتے تھے ، اور یمین کے طور پر اٹھاتے تھے کہ عورت کے لئے نماز ادا کرنے کی کوئی بھی جگہ اس کے گھر سے زیادہ بہتر نہیں ہے البتہ حج اور عمرے کا معاملہ مختلف ہے ، تاہم اس عورت کا معاملہ بھی مختلف ہے ، جو عمر رسیدگی کی وجہ سے مایوس ہو چکی ہو اور جو منقل میں چلے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس کے منقل میں چلنے سے مراد کیا ہے ، استاد نے جواب دیا : ایسی بوڑھی عورت جو چھوٹے قدم اٹھاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔