مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَصَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ . باب: خواتین کا مساجد کی طرف جانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے نکلنا اور ان کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا اور ان کا مسجد میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2113
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا صَلَّتِ امْرَأَةٌ فِي مَوْضِعٍ خَيْرٌ لَهَا مِنْ قَعْرِ بَيْتِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ أَوْ مَسْجِدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا امْرَأَةً تَخْرُجُ فِي مَنْقَلَيْهَا، يَعْنِي : خُفَّيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِمحمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عورت کسی بھی ایسی جگہ پر نماز ادا نہیں کرے گی جو اس کے لئے گھر کے انتہائی اندرونی حصے سے زیادہ بہتر ہو البتہ مسجد حرام یا مسجد نبوی کا معاملہ مختلف ہے البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جو منتقل میں نکلتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) یعنی موزے پہن کر نکلتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔