حدیث نمبر: 2108
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي حُجْرَتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي دَارِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا خَارِجُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا زَيْدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ فَإِنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ لَمْ يَذْكُرْ عَنْهُ رَاوِيًا غَيْرَ ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کا گھر کے اندورنی حصے میں نماز ادا کرنا اس کے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس کا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا اس کے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس کا صحن میں نماز ادا کرنا اس کے گھر سے باہر نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف زید بن مہاجر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ ابن ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت کرنے والے کسی بھی شخص کا ذکر نہیں کیا صرف اس کے بیٹے محمد بن زید کا ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه مقدام من اسمه مسعدة حديث 9276»