مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَصَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ . باب: خواتین کا مساجد کی طرف جانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے نکلنا اور ان کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا اور ان کا مسجد میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2101
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَجَائِزِ أَكُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالشَّوَابُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : " كُنَّ يُصَلِّينَ خَلْفَ مَنَاكِبِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے بوڑھی عورتوں کے بارے میں دریافت گا گیا : کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز با جماعت میں شریک ہوتی تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور جوان عورتیں بھی شریک ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ ہمارے پیچھے ( کھڑی ہو کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتی تھیں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔