مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَصَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ . باب: خواتین کا مساجد کی طرف جانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے نکلنا اور ان کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا اور ان کا مسجد میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2100
عَنْ سَالِمٍ قَالَ : كَانَ عُمَرُ رَجُلًا غَيُورًا فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ تَبِعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا ، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ " . ¤ وَسَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤محمد محی الدین
امام أحمد نے سالم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیز مزاج کے آدمی تھے ایک مرتبہ وہ نماز کے لئے نکلے ، تو عاتکہ بنت زید ( جو ان کی اہلیہ تھیں ) وہ ان کے پیچھے آئیں سیدنا عمر اس خاتون کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے ، اور اسے منع کرنے کو بھی ناپسند کرتے تھے وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے : ” جب تمہاری خواتین نماز کے لئے جانے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو تم انہیں منع نہ کرو “ ۔ سالم نامی راوی نے سیدنا عمر بھی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔