حدیث نمبر: 2100
عَنْ سَالِمٍ قَالَ : كَانَ عُمَرُ رَجُلًا غَيُورًا فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ تَبِعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا ، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ " . ¤ وَسَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

امام أحمد نے سالم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیز مزاج کے آدمی تھے ایک مرتبہ وہ نماز کے لئے نکلے ، تو عاتکہ بنت زید ( جو ان کی اہلیہ تھیں ) وہ ان کے پیچھے آئیں سیدنا عمر اس خاتون کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے ، اور اسے منع کرنے کو بھی ناپسند کرتے تھے وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے : ” جب تمہاری خواتین نماز کے لئے جانے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو تم انہیں منع نہ کرو “ ۔ سالم نامی راوی نے سیدنا عمر بھی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند الخلفاء الراشدين ، اول مسند عمر بن الخطاب رضى الله عنه ، 282»