مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْمَشْيُ إِلَى الصَّلَاةِ . باب: نماز کی طرف کیسے جایا جائے ؟
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بِالزَّاوِيَةِ إِذْ سَمِعَ الْأَذَانَ ثُمَّ قَارَبَ فِي الْخُطَا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي يَا ثَابِتُ لِمَ مَشَيْتُ بِكَ هَذِهِ الْمِشْيَةَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " لِيَكْثُرَ عَدَدُ الْخُطَا فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَنَسٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ثابت بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ” زاویہ “ میں چلتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے اذان کی آواز سنی پھر چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا پھر انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ نے دریافت کیا : اے انس ! کیا تم جانتے ہو ؟ میں اس طرح سے چل کے کیوں آیا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ نماز کی طلب میں قدموں کی تعداد زیادہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔