مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْمَشْيُ إِلَى الصَّلَاةِ . باب: نماز کی طرف کیسے جایا جائے ؟
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَكَانَ يُقَارِبُ الْخُطَا فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ لِمَ أُقَارِبُ الْخُطَا ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا دَامَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤ وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَكْثِيرِ خُطَايَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ " . ¤ وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ہمارا نماز کا ارادہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے قدم اٹھا رہے تھے آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں چھوٹے قدم کیوں اٹھا رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک وہ نماز کی طلب میں ہوتا ہے “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ نماز کی طلب میں میرے قدم زیادہ ہو جائیں “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے مصنف نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔