مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَتْبَعُ الْمَسَاجِدَ . باب: جو شخص مختلف مساجد کی طرف جائے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِهِ وَلَا يَتْبَعُ الْمَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ التِّرْمِذِيَّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، قُلْتُ : ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ فِي الطَّبَقَةِ الرَّابِعَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ابْنَ ابْنَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو فَلَا أَدْرِي هُوَ هَذَا أَمْ لَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہر شخص کو اپنی مسجد میں نماز ادا کرنی چاہیے اسے مختلف مساجد کی طرف نہیں جانا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن أحمد بن نضر ترمندی کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں چوتھے طبقے کے افراد میں کیا ہے انہوں نے محمد بن أحمد بن نضر نامی راوی کے حالات ذکر کیے ہیں جو معاویہ بن عمرو کا نواسہ ہے مجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد یہی شخص ہے یا کوئی اور ہے ۔