مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں کھانا اور پینا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي : أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجَرِّ فَضِيخٍ يَنُشُّ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ مَسْجِدَ الْفَضِيخِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” مسجد فضیخ “ میں فضیخ لائی گئی تھی آپ نے اسے پی لیا تو اسے ( یعنی مسجد کو ) یہی نام دے دیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹکا فضیخ کا لایا گیا اس میں جوش آیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد فضیخ میں موجود تھے آپ نے اسے پی لیا تو اسی وجہ سے اس مسجد کو ” مسجد فضیخ “ نام دیا گیا اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔