کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسجد میں کھانا اور پینا
حدیث نمبر: 2020
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا شِوَاءً وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَمْ نَزِدْ عَلَى أَنَّ مَسْحَنَا بِالْحَصْبَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بھونا ہوا کھانا کھایا تھا ہم لوگ اس وقت مسجد میں موجود تھے پھر نماز کھڑی ہو گئی “ تو ہم نے صرف یہ کیا کہ اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ومما اسند عبد الله بن عمر رضى الله عنهما سليمان بن زياد ، 13730»
حدیث نمبر: 2021
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَهُ يَتَسَحَّرُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا دَاوُدَ قَالَ : لَمْ يَسْمَعْ شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ مِنْ بِلَالٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ اپنے گھر میں موجود اپنی نماز کی مخصوص جگہ پر سحری کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ ابوداؤد نے یہ بات بیان کی ہے شداد نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2021
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
حدیث نمبر: 2022
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي : أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجَرِّ فَضِيخٍ يَنُشُّ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ مَسْجِدَ الْفَضِيخِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” مسجد فضیخ “ میں فضیخ لائی گئی تھی آپ نے اسے پی لیا تو اسے ( یعنی مسجد کو ) یہی نام دے دیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹکا فضیخ کا لایا گیا اس میں جوش آیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد فضیخ میں موجود تھے آپ نے اسے پی لیا تو اسی وجہ سے اس مسجد کو ” مسجد فضیخ “ نام دیا گیا اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف