مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَالْبَسَاتِينِ . باب: محلوں اور باغات میں مساجد بنانا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودِيٍّ ، فَقَالَ : " سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " وَذَلِكَ فِي زَمَنِ الثَّمَرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ يَوْمِ السَّبْتِ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَالِي دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي فَبَسَطْتُ لَهُ نِجَادًا مِنْ شَعْرٍ ، وَطَرَحْتُ لَهُ جَدِيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ ، فَدَخَلَا فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے ایک یہودی کا قرض چھوڑا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہفتے کے دن میں تمہاری طرف آؤں گا اگر اللہ نے چاہا راوی کہتے ہیں : یہ پھل اتارنے کے زمانے کی بات ہے ، جب درخت سے پھل اتارا جاتا ہے ، جب ہفتے کے دن کی صبح ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جب آپ میرے ہاں تشریف لائے تو آپ میرے کھجوروں کے باغ میں بھی آئے آپ صاف پانی کی نالی کی طرف بڑھے آپ نے اس میں سے وضو کیا پھر آپ مسجد کی طرف گئے اور دو رکعات ادا کیں پھر میں آپ کو ساتھ لے کر اپنے خیمے کی طرف آیا میں نے آپ کو بالوں سے بنا ہوا بچھونا بچھا دیا اور آپ کے لئے بالوں سے بنا ہوا تکیہ رکھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے آپ نے اس کے ساتھ ٹیک لگا لی تھوڑی سی دیر کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یوں لگتا تھا کہ جیسے انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ہے ۔ انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعات ادا کیں تھوڑی سی دیر کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعات ادا کیں گویا کہ انہوں نے پہلے دو حضرات کو دیکھ لیا تھا یہ دونوں حضرات اندر آئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی طرف بیٹھ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پاؤں کی طرف بیٹھ گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سلمہ بن ابویزید ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔