مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ أَيْنَ تُتَّخَذُ الْمَسَاجِدُ . باب: مساجد کہاں بنائی جائیں ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ أَنَّهُ جَاءَ بِإِدَاوَةٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ غَسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهَهُ وَمَضْمَضَ فِيهِ وَبَزَقَ فِي الْمَاءِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَلَأَ الْإِدَاوَةَ وَقَالَ : " لَا تَرِدَنَّ مَاءً إِلَّا مَلَأْتَ الْإِدَوَاةَ عَلَى مَا بَقِيَ فِيهَا فَإِنِ أَتَيْتَ بِلَادَكَ فَرُشَّ بِهِ تِلْكَ الْبُقْعَةَ وَاتَّخِذْهُ مَسْجِدًا " قَالَ : فَاتَّخَذُوهُ مَسْجِدًا ، قَالَ عُمَرُ : وَقَدْ صَلَّيْتُ أَنَا فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَعُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ذَكَرَهُ هُوَ وَأَبَوْهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا غَيْرَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمیر سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے پانی کا ایک برتن لے کر آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا تھا اس میں کلی کی تھی اور پانی میں لعاب دہن ڈالا تھا پھر آپ نے دونوں ہاتھ دھو کر برتن کو بھر دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : تم راستے میں جب بھی کسی پانی کے پاس سے گزرو تو اس برتن میں جو پانی بچ گیا ہو اس میں مزید پانی شامل کر لو جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس پانی کو اس جگہ پر چھڑک دینا اور وہاں مسجد بنا دیا راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے اس جگہ کو مسجد بنایا عمر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے وہاں نماز ادا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے عمر بن شقیق نامی راوی اور اس کے والد کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور ان دونوں کے بارے میں کسی جرح وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔