حدیث نمبر: 1952
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ ، قَالَ : فَكَأَنَّهُ لَمْ يُعْجِبْهُ عَمَلُهُمْ قَالَ : فَأَخَذْتُ الْمِسْحَاةَ فَخَلَطْتُ بِهَا الطِّينَ قَالَ : فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ أَخْذِي الْمِسْحَاةَ وَعَمَلِي فَقَالَ : " دَعُوا الْحَنَفِيَّ وَالطِّينَ فَإِنَّهُ أَضْبَطُكُمْ لِلطِّينِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَاخْتُلِفَ فِي ثِقَتِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے اصحاب میں تعمیر کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : یوں ظاہر ہوا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا کام پسند نہیں آیا راوی کہتے ہیں : میں نے پھاؤڑا پکڑا اور میں نے اس کی مٹی بنانی شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا پھاؤڑا پکڑنا اور میرا کام پسند آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حنفی کو مٹی والا کام کرنے دو کیونکہ یہ تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر مٹی تیار کر رہا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جس کے ” ثقہ “ ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف